نئی دہلی، 7؍ستمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )آزادی کے 69سال بعد بھی ملک میں عدم اطمینان میں اضافہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معروف مفکر کے این گووندآچاریہ نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں ملک نے کئی حکومتیں دیکھی، بہت سارے انتظامات بھی دیکھے ، لیکن روٹی، کپڑا، مکان، روزگار، تعلیم میں سے ایک کا بھی مکمل طور انتظام نہیں ہو سکا۔ایسے میں نظام میں تبدیلی کی لڑائی ابھی باقی ہے۔فطرت پر مبنی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اقتصادی پالیسی اور سیاست گائے ، گنگا دوستانہ ہو یہی وسیع عوامی مفادات میں اٹھایا گیا قدم ہوگا ۔گووندآچاریہ نے سوال کیاکہ آخر آزاد ہندوستان میں اتناعدم اطمینان کیوں ہے، اس کا کیا سبب ہو سکتا ہے؟ اور دن بدن عدم اطمینان کی خلیج گہری ہی ہوتی جا رہی ہے ،ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ملک میں پھیل رہے ان عدم اطمینان سے کیسے نمٹیں گے؟ واقعی اس نظام میں اس کا کوئی پختہ حل ہے کیا؟ انہوں نے کہا کہ ملک نے گزشتہ 69سالوں میں بہت سی حکومتیں دیکھی، یہاں سے وہاں تک بہت سارے انتظامات بھی بنے ، لیکن کسی بھی قسم سے روٹی، کپڑا، مکان، روزگار، تعلیم میں کسی ایک کا بھی مکمل طور انتظام نہیں ہو سکا۔اس کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہم نے انگریزوں کے کئے نظام کو اپنایا جو لوٹ کا نظام تھا۔انگریزی نظام بنا ہی تھا ہندوستان کو تقسیم کرکے ، آپس میں لڑاکر ہمیشہ اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے ، اور اس نظام کو ہی آج ہم اپنی ترقی کا راستہ سمجھ بیٹھے ہیں۔گووندآچاریہ نے کہا کہ گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ انگریزوں کا نظام چلا جائے تو ہی میں سمجھوں گا کہ سوراج آ گیا۔انگریز چلے جائیں لیکن ان کا نظام رہ جائے ، تو میں سمجھوں گا کہ سوراج نہیں آیا۔گاندھی جی کی آزادی ء کی جنگ صرف اقتدار کی منتقلی کے لیے نہیں، بلکہ نظام میں تبدیلی ہی ان کا بنیادی مقصد تھا کیونکہ انگریزوں کا وضع کردہ انتظامی، تعلیمی، سیاسی اور سماجی نظام ہندوستان کو کمزور کرکے ہندوستانیوں پر حکومت کرنے کے لیے تھا ۔
آر ایس ایس کے پرچارک رہے گووندآچاریہ نے کہا کہ انگریزوں نے ہندوستان پر اقتدار قائم رکھنے کے لیے 90سالوں میں کئی نظام بنائے تھے ، جس کی ایک تاریخ ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔1935میں ہندوستان حکومت ایکٹ کے طور پر انگریزوں نے ایک نظام بنایا تھا جو تقسیم کرو اور حکومت کرو پر مبنی تھی۔گووندآچاریہ نے کہا کہ انگریزوں کے بنائے نظام میں بیٹھنے والا شخص ہم آہنگی کو توڑنے والی کمزوریوں کی وجہ سے انتہائی طاقتور اور بے لگام بن جاتا ہے۔اسی وجہ سے جس لیڈر کو ہم منتخب کرتے ہیں اور جب وہ کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ بھی انگریزوں کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے، ہم کو تقسیم کرتا ہے، لوٹتا ہے اور صرف سیاست کرتا ہے۔انتظامی خدمتگار اور دیگر افسران بھی انگریزوں کے لوٹ والے نظام کو ہتھیار بنا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم آزاد ہو کر بھی، من مطابق ترقی کے لیے ترس رہے ہیں۔پانی، زمین کے تحفظ اور فطرت پر مبنی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے گووندآچاریہ نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں اس سال کے آخر تک زمین اور ندیوں کو ایک فرد مان کر قانون بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ہندوستان میں اس سلسلہ کی بحث زور پکڑ رہی ہے، اس کا تعلق بنیادی طور پراس بحث سے ہے کہ انسان فطرت کا فاتح ہے یا حصہ۔انہوں نے کہا کہ جو فطرت کا حصہ سمجھتے ہیں ان کی ترقی کی سمجھ، سمت اور طریقہ مختلف ہو گا، اور جو انسانی فطرت کا فاتح مانتے ہیں وہ گزشتہ 500سالوں سے چلے آرہے اقتصادی، سیاسی نظام کی آج کی صورت حال کے تئیں جوابدہ ہوں گے۔